بنگلورو،27/اگست (آئی این ایس انڈیا) تقریباً ایک ہفتے کے انتظار کے بعد کرناٹک میں وزراء کے درمیان محکموں کی تقسیم ہو گئی ہے۔ اس بار وزیر اعلی یدی یورپا کی کابینہ میں تین نائب وزیر اعلیٰ ہیں جن میں سے ایک وہی بی جے پی لیڈر ہیں جنہیں فحش ویڈیودیکھتے ہوئے پایا گیا تھا۔اس کی وجہ سے سیاسی گلیاروں میں ہلچل ہے۔بی جے پی لیڈر کا نام لکشمن ساودی ہے اور وہ ریاست اسمبلی میں فحش ویڈیودیکھتے ہوئے پکڑے گئے تھے۔نئی کابینہ میں انہیں ٹرانسپورٹ پورٹ فولیو بھی دیا گیا ہے۔ حالانکہ بی جے پی ممبر اسمبلی اور وزیر اعلی کے معاون پی رینکاچاری نے لکشمن کی تقرری کی مخالفت کی ہے۔انہوں نے جمعہ کو کہاکہ لکشمن ساودی کو انتخابات ہارنے کے باوجود وزیر کے طور پر شامل کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ بتا دیں کہ لکشمن ساودی گزشتہ سال مہیش کماٹلی سے الیکشن ہار گئے تھے۔
وہیں لکشمن ساودی نے کہاکہ مرکز اور ریاست کے لیڈروں نے مجھے نائب وزیر اعلی بنایا ہے۔انہوں نے مجھ پر یقین ظاہر کیا ہے۔میں پارٹی کو مضبوط بناؤں گا اور ہماری حکومت اچھا نام کرے گی۔میں نے یہ عہدہ نہیں مانگا تھا۔پارٹی کے سینئر لیڈروں نے مجھے یہ عہدہ دیا ہے۔میں اسے قبول کرتا ہوں۔بتا دیں کہ 2012 میں 2 لوگوں سمیت لکشمن ساودی اسمبلی میں فحش ویڈیودیکھتے ہوئے پائے گئے تھے۔اس سے بی جے پی کی کافی تنقیدہوئی تھی۔ساودی نے صفائی دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اسے تعلیم کے مقصد سے دیکھ رہے تھے جس سے وہ ریوپارٹی کے بارے میں جان سکیں۔ حالانکہ پھر ساودی، سی سی پاٹل اور کرشنا پالیمر نے کرناٹک میں وزیر کے عہدے سے استعفی دے دیا تھا۔